اشاعتیں

جولائی, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ایک سچہ واقعہ

تصویر
ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﭽﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺟﯿﻮ ﮔﺮﺍﻓﮏ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﯿﻮﻣﻨﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ  ﭼﻞ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ، ﯾﯿﻠﻮ ﺳﭩﻮﻥ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﭘﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﮒ ﺑﮭﮍﮐﯽ ﮐﮧ ﺳﺐ کچھ ﺍﮌﺍ  ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ، ﮨﺮ ﺷﮯ ﺭﺍکھ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ، کچھ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺑﭽﺎ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺭﯾﺴﺮﭺ ﭨﯿﻢ  ﺍﺩﮬﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺗﻨﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ  ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭽﺎﺭﯼ ﺟﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﻣﻠﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ  ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﻻﺅ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ۔ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺑﮭﯽ  ﺁﮒ ﯾﺎ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺩیکھ ﮐﺮ ﺍﮌ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﭻ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺭﯾﺴﺮﭼﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮈﻧﮉﯼ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺳﺮﮐﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ  ﭼﮍﯾﺎ ﮐﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﻧﮑﻠﮯ۔ ﻭﮦ ﭼﮍﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﮔﮭﻮﻧﺴﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ  ﺍﺩﮬﺮ ﻻ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﯾﮧ سمجھ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ  ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺩ ﮔﺌﯽ۔ ﻭﮦ  ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ بیٹھ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﭻ ﮐﯽ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮑﻠﯿﻒ  ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﺕ ﭼﻦ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ  ﮐﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻭ...

سلجوقی سلطنت

تصویر
                              سلجوقی سلطنت سلجوقی سلطنت 11ویں تا 14ویں صدی عیسوی کے درمیان میں مشرق وسطی اور وسط ایشیا میں قائم ایک مسلم بادشاہت تھی جو نسلا اوغوز ترک تھے۔ مسلم تاریخ میں اسے بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ دولت عباسیہ کے خاتمے کے بعد عالم اسلام کو ایک مرکز پر جمع کرنے والی آخری سلطنت تھی۔ اس کی سرحدیں ایک جانب چین سے لے کر بحیرۂ متوسط اور دوسری جانب عدن لے کر خوارزم و بخارا تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان کا عہد تاریخ اسلام کا آخری عہد زریں کہلا سکتا ہے اسی لیے سلاجقہ کو مسلم تاریخ میں خاص درجہ و مقام حاصل ہے۔ سلجوقیوں کے زوال کے ساتھ امت مسلمہ میں جس سیاسی انتشار کا آغاز ہوا اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اہلیان یورپ نے مسلمانوں پر صلیبی جنگیں مسلط کیں اور عالم اسلام کے قلب میں مقدس ترین مقام (بیت المقدس) پر قبضہ کر لیا۔ طغرل بے اور چغری بیگ! طغرل بے سلجوق کا پوتا تھا جبکہ چغری بیگ اس کا بھائی تھا جن کی زیر قیادت سلجوقیوں نے غزنوی سلطنت سے علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش کی۔ ابتداء میں سلجوقیوں کو محمود غزنوی کے ہاتھوں...

بابا کھڑک سنگھ

تصویر
‏تاریخ کا ان پڑھ جج جسٹس بابا کھڑک سنگھ ۔ بابا کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے۔ ایک لمبی چوڑی جاگیر کے مالک تھے۔ جاگیرداری کی یکسانیت سے اکتا کر ایک دن بھانجے سے کہا، " تیرے شہر میں ‏سیشن جج کی کرسی خالی ہے۔ ( اس دور میں سیشن جج کی کرسی کا آرڈر انگریز وائسرائے جاری کرتے تھے ) تُو لاٹ صاحب کے نام چھٹی لکھ دے اور مَیں سیشن ججی کا پروانہ لے آتا ہوں" مہاراجہ سے چھٹی لکھوا کے مہر لگوا کر ماموں لاٹ صاحب کے سامنے حاضر ہوگئے۔‏وائسرائے نے پوچھا: نام بولے "کھڑک سنگھ" تعلیم ؟ بولے : کیوں سرکار ؟ مَیں کوئی اسکول میں بچے پڑھانے کا آرڈر لے آیا ہوں؟ وائسرائے ہنستے ہوئے بولے: سردار جی! قانون کی تعلیم کا پوچھا ہے،‏آخر آپ نے اچھے بروں کے درمیان تمیز کرنی ہے، اچھوں کو چھوڑنا ہے، بُروں کو سزا دینی ہے۔ کھڑک سنگھ مونچھوں کو تاؤ دے کر بولے، سرکار اتنی سی بات کے لئے گدھا وزن کی کتابوں کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کام میں برسوں سے پنچائت میں کرتا آیا ہوں اور ‏ایک نظر میں اچھے بُرے کی تمیز کر لیتا ہوں۔ وائسرائے نے یہ سوچ کر کہ اب کون مہاراجہ اور مہاراجہ کے ماموں سے الجھے، جس نے سفارش کی ہے ...

"مراد ثانی"

تصویر
                              "مراد ثانی"     تعارف: (پیدائش: جون 1404ء— انتقال 3 فروری1451ء) 1421ء سے 1451ء تک (1444ء سے 1446ء تک کا عرصہ چھوڑ کر) سلطنت عثمانیہ کے سلطان رہے۔ ان کا دور حکومت بلقان اور اناطولیہ میں زبردست جنگوں کا دور تھا جس میں انہوں نے شاندار فتوحات حاصل کیں۔ انہوں نے اپنے والد محمد اول کی وفات پر محض 18 سالہ کی عمر میں تخت سنبھالا۔ ان کو سب سے پہلے بغاوتوں کا سامنا رہا تاہم وہ انہیں فرو کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے 1421ء میں قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا لیکن اپنے بھائی مصطفی کی جانب سے بروصہ پر حملے کی وجہ سے انہیں یہ محاصرہ اٹھانا پڑا اور انہوں نے بروصہ پہنچ کر مصطفی کو شکست دی اور اسے قتل کر دیا۔ مصطفی کو بغاوت پر آمادہ کرنے والی اناطولیہ میں پھیلی ترک ریاستوں کو ان کے کیے کی سزا ملی اور مراد ثانی نے سب کو شکست دے کر سلطنت میں شامل کر لیا۔ مراد نے 1428ء میں کرمانیوں کو شکست دی اور 1430ء میں دوسرے محاصرۂ سالونیکا کے بعد 1432ء میں وینس بھی دستبردار ہو گیا۔ اسی دہائی میں مراد نے بلقان...

سقوط بغداد

تصویر
            1258ء میں منگولوں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی اور خلافت عباسیہ کے خاتمے کو سقوط بغداد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بغداد کا محاصرہ جو ١٢٥٨ء میں ہوا ایک حملہ، جارحیت اور بغداد شہر کی بربادی تھا، اس حملہ نے بغداد کو مکمل طور پر برباد کر دیا باشندے جن کی تعداد 100،000 سے 1،000،000تهى کو شہر کے حملے کے دوران قتل کیا گیا،اور شہر جلا دیا یہاں تک کہ بغداد کے کتب خانے بھی چنگيزى افواج کے حملوں سے محفوظ نہ تھے جس میں بيت الحكمة بھی شامل ہے انہوں نے مکمل طور پر كتب خانے تباہ کر ڈالے ہلاکو خان کی زیر قیادت منگول افواج نے خلافت عباسیہ کے دار الحکومت بغداد کا محاصرہ کرکے شہر فتح کر لیا اور عباسی حکمران مستعصم باللہ کو قتل کر دیا۔ شہر میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور کتب خانوں کو نذر آتش اور دریا برد کر دیا گیا۔ جنگ کے بعد منگولوں نے شام پر حملہ کیا اور دمشق، حلب اور دیگر شہروں پر قبضہ کر لیا۔ اس شکست کے ساتھ ہی امت مسلمہ کے عروج کا دور اول ختم ہو گیا۔ منگولوں کی پیشقدمی کا خاتمہ مملوک سلطان سیف الدین قطز اور اس کے سپہ سالار رکن الدین بیبرس نے فلسطین کے...

صبر اور برداشت

تصویر
           صبر اور برداشت میں نے جب حضرت مریم علیہ السلام کا قصہ پڑھا اور مجھے    اُنکی برداشت پر رشک آیا، پھر اسے اپنے اوپر سوچا کہ اگر یہ سب میرے ساتھ ھوتا؟ تو میرے رونگٹے کھڑے ھو گئے کہ جو لوگ انکو باتیں کرتے تھے اگر میرے اوپر ھوتیں تو؟ ناقابل برداشت! میں نے حضرت آسیہ علیہ السلام کا قصہ پڑھا جو کہ فرعون کی زوجیت میں تھیں، تو اُن کے صبر پر رشک آیا، اگر آج ھماری کسی بہن کا شوھر انہیں کچھ کہہ دے تو آسمان بول بول کر سر پر اٹھا لیتی ھیں۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی پیدائش ھی بت تراش کے گھر ھوئی، گھر سے نکالے گئے، اپنا باپ ھی بیٹے کو جلانے کے لیے لکڑیاں اٹھا اٹھا کر لاتا تھا، لیکن امتحان میں کامیاب ھوئے تو ویران بیابان میں اکلوتی اولاد کو چھوڑا، اللّٰہ اکبر، پھر قربانی دینے کا حکم، آج کسی مرد میں ھے اتنا حوصلہ؟؟؟ کبھی نہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری، سب کچھ چلا گیا اولاد، مال، بیویاں، سب کچھ، لیکن آزمائش پر صبر کیا، آج ھے کسی میں اتنا صبر؟؟؟ بالکل نہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو بچپن میں ان کے والد سے بھائیوں نے دور کر کے کنویں میں پھینکا، ...

معرکہ انوال

تصویر
معرکہ انوال  معرکہ انوال 22 جولائی 1921 میں ہونے والے معرکے انوال میں مراکشی شہزادے محمد بن عبدالکریم خطابی نے 3 ہزار مجاہدین کے ذریعے روایتی بندوقوں کے ساتھ جدید کمیائی اسلحہ، ٹینک ،گولا بارود اور توپ خانے رکھنے والی 28000 اسپینی اور فرانسیسی فوج کو عبرتناک شکست دی  15000 صلیبی فوج اس معرکے میں ماری گئی اور 700 کو مسلمانوں نے قید بنا دیا اور ان کا صلیبیوں کا کمانڈر سلفسری اس جنگ میں مارا گیا۔  ( یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سلفسری اس جنگ کی شکست کو برداشت نہ کرسکا اور اس نے خودکشی کر لی تھی) آج بھی دنیا محمد بن عبدالکریم خطابی کو گوریلا کمانڈر کے نام سے جانتی ہے جس نے نئے نئے طریقوں سے خندقیں کھودنے اور بنکر بنوائے جن سے مسلمانوں کو دشمن کو شکست دینے میں بہت زیادہ مدد ملی معرکہ انوال 20 صدی کی جدید ترین گوریلا جنگوں میں سے ایک ہے۔ ناجانے کتنے مسلمان نوجوان ہوگے جو محمد بن عبدالکریم خطابی کو جانتے بھی نہیں ہوگے.

خوش رہنے کا عجیب انداز

تصویر
خوش رہنے کا عجیب انداز     چھوٹی چھوٹی پریشانیوں.         میں خوشیوں کی تلاش ایک خاتون کی عادت تھی کہ وہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنی دن بھر کی خوشیوں کو ایک کاغذ پر لکھ لیا کرتی تھی ٬ ایک شب اس نے لکھا کہ: میں خوش ہوں کہ میرا شوہر تمام رات زور دار خراٹے لیتا ہےکیونکہ وہ زندہ ہے اور میرے پاس ہے نا۔ یہ اللہ کا شکر ہے میں خوش ہوں کہ میرا بیٹا صبح سویرے اس بات پر جھگڑا کرتا ہے کہ رات بھر مچھر،کھٹمل سونے نہیں دیتے یعنی وہ رات گھر پہ ہی گزارتا ہے آوارہ گردی نہیں کرتا۔ اس پر بھی اللہ کا شکر ہے۔ میں خوش ہوں کہ ہر مہینہ بجلی، گیس، پانی،پٹرول وغیرہ کا اچھا خاصا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے یعنی یہ سب چیزیں میرے پاس میرے استعمال میں ہیں نا۔۔ اگر یہ نہ ہوتی تو زندگی کتنی مشکل ہوتی۔ اس پر بھی اللہ کا شکر ہے میں خوش ہوں کہ میرے کپڑے روزبروز تنگ اور چھوٹے ہورہے ہیں یعنی مجھے اللہ تعالی اچھی طرح کھلاتا پلاتا ہے اس پر بھی اللہ کاشکر ہے میں خوش ہوں کہ دن ختم ہونے تک میرا تھکن سے برا حال ہوجاتا ہے یعنی میرے اندر دن بھر سخت کام کرنے کی طاقت ہے نا۔۔۔ اور یہ طاقت اور ہمت صرف ا...