اشاعتیں

دجال اور اس کا فتنہ اور پرسرار بزرگ کا واقعہ

تصویر
      دجال اور اس کا فتنہ اور پرسرار بزرگ کا واقعہ نبی آخرالزمانﷺنے فرمایا دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہوگا، دونوں پاؤں ٹیڑھے ہوں گے، جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی، رنگ سرخ یا گندمی ہوگا، سر کے بال حبشیوں کی طرح ہوں گے، ناک چونچ کی طرح ہوگی، بائیں آنکھ سے کانا ہوگا، دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہوگا، اس کے ماتھے پر ک ا ف ر لکھا ہو گا جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا۔ اس کی آنکھ سوئی ہوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا، شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اس کے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہوگا، ایک قدم تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا۔ دجال پکا جھوٹا اور اعلیٰ درجہ کا شعبدے باز ہوگا،اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہوں گی، زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گا، دجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گے اور در...

‏ہیکل سلیمانی سے یہودیوں کا تعلق

تصویر
                 ‏[ہیکل سلیمانی سے یہودیوں کا تعلق] آج کی پوسٹ تھوڑی لمبی لیکن کافی معلوماتی ہے۔ ہیکل سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کرکے یا اس کے اندر عبادت کریں۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ھاں کسی بھی باقاعدہ ہیکل کا نہ کوئی وجود اور نہ اس کا کوئی تصور تھا۔ اس قوم کی بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی تھی۔ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا۔ اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ھوتا تھا جس کی جانب یہ رخ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔ روایات کے مطابق یہ تابوت جس لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اسے " شمشاد کہتے ہیں۔ اور اسے جنت سے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا تھا۔ یہ تابوت نسل در نسل انبیا سے ھوتا ھوا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تک پہنچا تھا، اس مقدس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا من و سلویٰ اور دیگر انبیا کی یادگاریں تھیں۔ یہودی اس تابوت کی برکت سے ھر مصیبت پریشانی کا حل لیا کرتے تھے مختلف اقوام کے ساتھ جنگوں کے دوران اس صندوق کو ل...

دی لیجنڈ آف ٹومیریس، ازبکستان

تصویر
                             Tomyris                   دی لیجنڈ آف ٹومیریس، ازبکستان                               Tomyris Tomyris کی علامات - Massagetae کی ملکہ قدیم زمانے میں یوریشیائی میدانوں کا وسیع و عریض علاقہ Scythian رینج کے افسانوی جنگجو خانہ بدوشوں کے کنٹرول میں تھا: ساکا، Massagetae، Sarmatians اور Scythians۔ آٹھویں صدی سے لے کر چوتھی صدی تک ہزاروں سالوں سے، وہ مشرقی اور یورپ کی تہذیبوں کو خوفزدہ کر رہے تھے: یونان، روم، مصر اور فارس۔ Saka اور Massagetae مشرقی قبائل تھے جو وسطی ایشیا میں رہتے تھے۔ Achaemenid Empire جسے اکثر پہلی فارسی سلطنت کہا جاتا ہے چھٹی صدی قبل مسیح میں ابھرا۔ فارس کے بادشاہ سائرس دوم نے میسوپوٹیمیا کے ممالک کو متحد کیا اور فوجی توسیع شروع کی۔ اس نے مصر کی وسیع فتح کا منصوبہ بنایا۔ تاہم، سائرس نے دانشمندی سے اندازہ لگایا کہ فرعون اماسیس کی پالیسی سے مضبوط ہونے...

یأجوج و مأجوج کون ہیں؟

تصویر
 یأجوج و مأجوج کون ہیں؟   یأجوج و مأجوج دو قبائل کے نام ہیں جو ایک ساتھ رہتی ہیں۔ ان کا نسب: یہ دونو ں قبائل حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور ساتھ ہی حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں، یعنی یہ عام انسان ہیں۔ یہ نہ تو جنات ہیں، نہ خلائی مخلوق اور نہ ہی کوئی افسانوی مخلوق، جیسا کہ بعض کہانیاں بیان کرتی ہیں۔ ان کا ماضی: یأجوج و مأجوج طویل عرصے تک باقی انسانوں سے الگ تھلگ رہے، جس کی وجہ سے وہ تہذیب و تمدن میں باقی دنیا سے پیچھے رہ گئے۔ ذوالقرنین کے زمانے میں یہ لوگ دو پہاڑوں کے درمیان رہتے تھے اور لوگوں کو لوٹ مار، قتل و غارت اور فساد سے تنگ کرتے تھے۔ ایک مومن بادشاہ جو زمین پر سفر کرتا اور لوگوں کو رب العالمین کی طرف بلاتا تھا۔ - اس کے پاس ایک بہت بڑی اور طاقتور فوج تھی۔ - وہ اپنے فوج کے ساتھ زمین کے مشرق و مغرب کا سفر کرتا تھا۔ - اللہ نے اسے حکمت، علم، قوت، اور ایمان عطا کیا تھا۔ ذو القرنین اپنی عظیم فوج کے ساتھ زمین کے مشرق و مغرب کا سفر کر رہا تھا، لوگوں کو رب العالمین کی طرف بلاتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ ایک ایسی قوم سے ملا جو دو پہاڑوں کے قریب رہتے تھے...

جب کشتیاں جلا دی گئیں

تصویر
جب کشتیاں جلا دی گئیں اور مسلم افواج اسپین میں داخل ہوئیں۔ فتح اندلس کی سچی داستان ۹۲ھ میں اندلس موجودہ اسپین پر عیسائی حکمراں راڈرک تخت نشیں تھا جس کو عربی تاریخوں میں لزریق کہتے ہیں یہ نہایت بے رحم اور عیاش تھا اس کا ایک خاص شوق یہ تھا کہ وہ اپنی رعایا کے نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کو شاہی تربیت کے بہانے اپنے زیر اثر رکھتا تھا اور اپنی ہوس کا شکار بناتاتھا، چناں چہ اس کے ایک گورنر کونٹ جولین کی بیٹی فلورنڈا، بھی اس کے فعل قبیحہ سے نہ بچ سکی نتیجتاً نوعمر لڑکی نے اپنے باپ جولین کو اس حرکت سے باخبر کیا جس کی وجہ سے جولین کے دل میں راڈرک اور اس کی حکومت کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی، یہ وہ زمانہ تھا کہ جب اہل اسلام موسیٰ بن نصیر کی قیادت میں شمالی افریقہ کے پیشتر حصوں کو اپنا وطن بناچکے تھے چناں چہ جولین ایک وفد لے کر موسیٰ بن نصیر کی چوکھٹ پر حاضر ہوا اور موسیٰ کو راڈرک کی تمام کرتوت سے آگاہ کیا اوردرخواست کی کہ وہ اسپین کو راڈرک جیسے سفاک، بدکردار، حاکم سے نجات دلائیں جولین کی گزارش پر موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبدالملک سے اندلس پر حملے کی اجازت طلب کی خلیفہ نے احتیاط کی تاکید ...

اسلامی تاریخ کا تاریخی جائزہ

تصویر
                                                                                                 اسلامی تاریخ کا تاریخی جائزہ ابتدائی اسلامی تاریخ حیاتِ نبی اکرم ﷺ خلافتِ راشدہ بنو امیہ کی خلافت (661-750) بنو عباس کی خلافت (750-1258) حضرت محمد ﷺ کی پیدائش ولادت کی تفصیلات ان کے خاندان اور تربیت اہم واقعات بچپن کے واقعات کردار کے اہم پہلو نبوت کا آغاز ہجرتِ مدینہ حالات کے اسباب ہجرت کے مراحل مہاجرین اور انصار اثرات معاہدۂ مدینہ غزوات اور جنگیں فتح مکہ خلافت راشدہ اموی خلیفہ کی حکومت اہم حکمران انتظامیہ اور حکومت فوجی فتوحات ثقافتی اور علمی ترقی معیشت عباسی خلیفہ کی حکومت عباسی دور کی خصوصیات عباسی خلافت کے اہم خلیفہ عباسی دور کی زوال کی وجوہات عہد فاطمیہ عروج و قیام فتوحات اقتصادی ترقی تعلیم و ثقافت زوال آخری دن سلطنت عثمانیہ کی تاریخ ابتد...