دجال اور اس کا فتنہ اور پرسرار بزرگ کا واقعہ

 


    دجال اور اس کا فتنہ اور پرسرار بزرگ کا واقعہ




نبی آخرالزمانﷺنے فرمایا دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہوگا، دونوں پاؤں ٹیڑھے ہوں گے، جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی، رنگ سرخ یا گندمی ہوگا، سر کے بال حبشیوں کی طرح ہوں گے، ناک چونچ کی طرح ہوگی، بائیں آنکھ سے کانا ہوگا، دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہوگا، اس کے ماتھے پر ک ا ف ر لکھا ہو گا جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا۔ اس کی آنکھ سوئی ہوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا، شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اس کے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہوگا، ایک قدم تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا۔


دجال پکا جھوٹا اور اعلیٰ درجہ کا شعبدے باز ہوگا،اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہوں گی، زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گا، دجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گے اور درختوں پر پھل آجائیں گے، کچھ لوگوں سے آکر کہے گا کہ اگر میں تمہارے ماؤں اور باپوں کو زندہ کر دوں تو تم کیا میری خدائی کا اقرار کرو گے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے، اب دجال کے شیطان ان لوگوں کے ماؤں اور باپوں کی شکل لے کر نمودار ہوں گے، نتیجتاً بہت سے افراد ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے،

اس کی رفتار آندھیوں سے زیادہ تیز اور بادلوں کی طرح رواں ہو گی، وہ کرشموں اور شعبدہ بازیوں کو لے کر دنیا کے ہر ہر چپہ کو روندے گا تمام دشمنانِ اسلام اور دنیا بھر کے یہودی، امت مسلمہ کے بغض میں اس کی پشت پناہی کر رہے ہوں گے۔ وہ مکہ معظمہ میں گھسنا چاہے گا مگر فرشتوں کی پہرہ داری کی وجہ سے ادھر گھس نہ پائے گا۔ اسلئے نامراد وذلیل ہو کر مدینہ منورہ کا رخ کرے گا۔ اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر فرشتوں کا پہرا ہو گا۔ لہذا یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی، انہی دنوں مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے گھبرا کر بہت سارے بے دین شہر سے نکل کر بھاگ نکلیں گے، باہر نکلتے ہی دجال انہیں لقمہ تر کی طرح نگل لے گا

آخر ایک بزرگ اس سے بحث و مناظرہ کے لئے نکلیں گے اور خاص اس کے لشکر میں پہنچ کر اس کی بابت دریافت کریں گے، لوگوں کو اس کی باتیں شاق گزریں گی، لٰہذا اس کے قتل کا فیصلہ کریں گے مگر چند افراد آڑے آکر یہ کہہ کر روک دیں گے کہ ہمارے خدا دجال (نعوذ بااللہ) کی اجازت کے بغیر اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا ہے چنانچہ اس بزرگ کو دجال کے دربار میں حاضر کیا جائے گا جہاں پہنچ کر یہ بزرگ چلا اٹھے گا ’’میں نے پہچان لیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرے ہی خروج کی خبر دی تھی‘‘۔ دجال اس خبر کو سنتے ہی آپے سے باہر ہو جائے گا اوراس کو قتل کرنے کا فیصلہ کرے گا، درباری فوراً اس بزرگ کے دو ٹکڑے کر دیں گے،

دجال اپنے حواریوں سے کہے گا کہ اب اگر میں اس کو دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تم کو میری خدائی کا پختہ یقین ہو جائے گا، یہ دجالی گروپ کہے گا کہ ہم تو پہلے ہی سے آپ کو خدا مانتے ہوئے آرہے ہیں، البتہ اس معجزہ سے ہمارے یقین میں اور اضافہ ہو جائے گا،دجال اس بزرگ کے دونوں ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے زندہ کرنے کی کوشش کرے گا ادھر وہ بزرگ بوجہ حکم الہٰی کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے اب تو مجھے اور زیادہ یقین آ گیا ہے کہ تو ہی دجال ملعون ہے،وہ جھنجھلا کر دوبارہ انہیں ذبح کرنا چاہے گا لیکن اب اس کی قوت سلب کر لی جائے گی




دجال شرمندہ ہوکر انہیں اپنی جہنم میں جھونک دے گا لیکن یہ آگ ان کیلئے ٹھنڈی اور گلزار بن جائے گی،اس کے بعد وہ شام کا رخ کرے گا لیکن دمشق پہنچنے سے پہلے ہی حضرت امام مہدی علیہ السلام وہاں آچکے ہوں گے،دجال دنیا میں صرف چالیس دن رہے گا، ایک دن ایک سال دوسرا دن ایک مہینہ اور تیسرا دن ایک ہفتہ کے برابر ہوگا، بقیہ معمول کے مطابق ہوں گے۔حضرت امام مہدی علیہ السلام دمشق پہنچتے ہی زور وشور سے جنگ کی تیاری شروع کردیں گے لیکن صورتِ حال بظاہر دجال کے حق میں ہوگی کیونکہ وہ اپنے مادی و افرادی طاقت کے بل پر پوری دنیا میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہو گا۔


اسلئے عسکری طاقت کے اعتبار سے تو اس کی شکست بظاہر مشکل نظر آ رہی ہو گی مگر اللہ کی تائید اور نصرت کا سب کو یقین ہوگا،حضرت امام مہدی علیہ السلام اور تمام مسلمان اسی امید کے ساتھ دمشق میں دجال کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں ہوں گےتمام مسلمان نمازوں کی ادائیگی دمشق کی قدیم شہرہ آفاق مسجد میں جامع اموی میں ادا کرتے ہوں گے،ملی شیرازہ ،لشکر کی ترتیب اور یہودیوں کے خلاف صف بندی کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ امام مہدی دمشق میں اس کو اپنی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے اور اس وقت یہی مقام ان کا ہیڈ کوارٹر ہو گ


حضرت امام مہدی ایک دن نماز پڑھانے کیلئے مصلے کی طرف بڑھیں گے تو عین اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا،نماز سے فارغ ہو کر لوگ دجال کے مقابلے کیلئے نکلیں گے، دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسا گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ کر اس کو باب لد کے مقام پر قتل کر دیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ شجر و حجر آواز لگائیں گے کہ اے روح اللہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے


چنانچہ وہ دجال کے چیلوں میں سے کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑیں گےپھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے یعنی صلیب پرستی ختم کریں گےخنزیر کو قتل کر کے جنگ کا خاتمہ کریں گے اور اس کے بعد مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگ ایسے دین دار ہو جائیں گے کہ ان کے نزدیک ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔(مسلم، ابن ماجہ، ابودائود، ترمذی، طبرانی، حاکم، احمد) اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کا ایمان سلامت رکھے۔


دجال کا مطلب ہے مکار و فریبی،نبی اقدسﷺ نے ہر جمعہ کے دن سورہ الکہف پڑھنے کی ترغیب دی ہے اور اس کا ایک فائدہ دجال کے فتنے سے حفاظت بھی بیان فرمائی،بڑا دجال تو ہے ہی لیکن یہ جو ہر روز ہمیں گمراہوں، عیار لوگوں، فریبیوں، دھوکے بازوں، دین فروشوں سے واسطہ پڑتا ہے ان کی بھلی شکلوں کو دیکھ کر، ان کی چرب زبانی سن کر، ان کی ظاہری ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر انسان بہت متاثر و مرعوب ہوجاتا ہے،بہت سے لوگ پھسل بھی جاتے ہیں اور گمراہی کے گڑھے میں جا گرتے ہیں ،


ان سے ایمان و جان کو بچانے کے لیے سورہ الکہف کی حفاظتی تدبیر سے بہتر کوئی صورت نہیں ہے، اس لیے ہر مسلمان کو جمعہ کے دن سورہ الکہف کی تلاوت کرنی چاہئے تاکہ اللہ کریم ہمارے ایمان، ہمارے مال، ہماری عزت و آبرو کو ان دجالوں کے فتنے سے محفوظ فرمائے ،ہر نماز میں التحیات کے آخر میں فتنہ دجال سے پناہ مانگنے کی دعا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے اسے بھی مسلسل پڑھنا چاہئے ۔



یأجوج و مأجوج کون ہیں؟

 یأجوج و مأجوج کون ہیں؟






 

یأجوج و مأجوج دو قبائل کے نام ہیں جو ایک ساتھ رہتی ہیں۔


ان کا نسب:


یہ دونو


ں قبائل حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور ساتھ ہی حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں، یعنی یہ عام انسان ہیں۔

یہ نہ تو جنات ہیں، نہ خلائی مخلوق اور نہ ہی کوئی افسانوی مخلوق، جیسا کہ بعض کہانیاں بیان کرتی ہیں۔


ان کا ماضی:


یأجوج و مأجوج طویل عرصے تک باقی انسانوں سے الگ تھلگ رہے، جس کی وجہ سے وہ تہذیب و تمدن میں باقی دنیا سے پیچھے رہ گئے۔

ذوالقرنین کے زمانے میں یہ لوگ دو پہاڑوں کے درمیان رہتے تھے اور لوگوں کو لوٹ مار، قتل و غارت اور فساد سے تنگ کرتے تھے۔

ایک مومن بادشاہ جو زمین پر سفر کرتا اور لوگوں کو رب العالمین کی طرف بلاتا تھا۔

- اس کے پاس ایک بہت بڑی اور طاقتور فوج تھی۔

- وہ اپنے فوج کے ساتھ زمین کے مشرق و مغرب کا سفر کرتا تھا۔

- اللہ نے اسے حکمت، علم، قوت، اور ایمان عطا کیا تھا۔

ذو القرنین اپنی عظیم فوج کے ساتھ زمین کے مشرق و مغرب کا سفر کر رہا تھا، لوگوں کو رب العالمین کی طرف بلاتا تھا۔

یہاں تک کہ وہ ایک ایسی قوم سے ملا جو دو پہاڑوں کے قریب رہتے تھے۔

لیکن وہ ان کی زبان نہیں سمجھتا تھا، اس نے ان کے درمیان ایک مترجم رکھا...

ابن کثیر اپنے تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس نے ان کے درمیان درجنوں مترجمین رکھے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

وہ لوگ ذو القرنین سے کہنے لگے: اے ذو القرنین، ہمیں یأجوج و مأجوج سے بچاؤ۔

ذو القرنین نے پوچھا: یأجوج و مأجوج کون ہیں؟

انہوں نے جواب دیا: وہ مفسد ہیں، کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں، ہمارے کھیتوں اور نسلوں کو تباہ کرتے ہیں۔

ذوالقرنین نے اللہ کے حکم سے ان کے لیے ایک مضبوط دیوار بنا دی تاکہ یہ باقی دنیا سے الگ ہو جائیں۔


                                                        ان کی کثرت:

یأجوج و مأجوج کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ قیامت کے دن، اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام سے فرمائیں گے:

"اے آدم! اپنی اولاد میں سے جہنم کے لیے افراد نکالو"

آدم علیہ السلام پوچھیں گے:

"کتنے؟"

اللہ فرمائیں گے:

"ہر ہزار میں سے 999 جہنم میں اور 1 جنت میں"

یہ سن کر صحابہ کرام خوفزدہ ہو گئے اور پوچھا:

"یا رسول اللہ! وہ ایک کون ہوگا؟"

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"وہ ایک تم میں سے ہوگا، اور 999 یأجوج و مأجوج میں سے ہوں گے۔"


یأجوج و مأجوج کے کفریہ عقائد:


یأجوج و مأجوج کا خروج قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔

جب وہ دیوار سے باہر نکلیں گے تو زمین پر فساد مچائیں گے۔

ان کی کفر کی شدت کا یہ حال ہوگا کہ وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے، اور جب وہ تیر خون سے واپس آئیں گے تو وہ دعویٰ کریں گے:

"ہم نے زمین والوں کو زیر کر لیا اور آسمان والوں پر بھی غالب آ گئے۔"

ان کا انجام:


یأجوج و مأجوج کو اللہ تعالیٰ ایک خاص کیڑے (النغف) کے ذریعے ہلاک کرے گا، جو ان کی گردنوں پر حملہ کرے گا۔

ان کی لاشیں زمین کو بھر دیں گی اور بدبو پھیل جائے گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ سے دعا کریں گے، تو اللہ تعالیٰ پرندے بھیجے گا جو ان لاشوں کو اٹھا کر لے جائیں گے اور زمین کو پاک کرے گا۔


ان کا موجودہ مقام:


یأجوج و مأجوج کہاں ہیں؟ یہ ایک ایسا راز ہے جو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

ان کا مقام یا تو زمین کے نیچے کسی گہرائی میں ہے یا کسی ایسی جگہ پر جہاں انسانوں کی رسائی ممکن نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ روزانہ دیوار کو کھودتے ہیں، اور جب سورج کی روشنی قریب آتی ہے تو ان کا سردار کہتا ہے:

"کل دوبارہ آئیں گے، ان شاء اللہ۔"

یہی "ان شاء اللہ" کہنا ان کے آخری دن میں فیصلہ کن ہوگا جب وہ دیوار کو مکمل کھود کر باہر نکلیں گے۔اور یہ دنیا میں فساد برپا کریں گے۔


مولانا حافظ الرحمن نے اپنی کتاب قصص القرآن میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی ؑ اور تمام مسلمان مل کر اللہ سے دعا کریں گے ۔ یہ ان سے جان چھڑا دیں۔ 

پھر ا للہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایسا کیڑ اپیدا کرے گا جو ان کی موت کا باعث بنے گا۔ پوری زمین ان کی لاشوں سے بھر جائے گی ۔ پھر اللہ کے حکم سے بارش برسے گی جو زمین کو ان تمام لاشوں سے پاک کردے گی۔

 یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت ظہور مہدی ؑ پھر خروج دجال کے بعد ہوگا۔

اس وقت حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہوکر دجال کو قتل کرچکیں ہوں گے۔ 

ان کے نکلنے کی ایک علامت بحریہ طبریہ کے پانی کا تیزی سے کم ہونا بیان کیا جاتا ہے، جس کا حدیث مبارکہ میں بھی ذکر ہے ۔ اور یہی وہ وقت ہو گا جب قیامت قریب ہو گی ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے اور ہمیں اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ 


ہماری ذمہ داری:


یأجوج و مأجوج کے بارے میں ایمان رکھنا ایمان بالغیب کا حصہ ہے۔

اللہ نے ان کا ذکر ہمیں اس لیے کیا تاکہ ہم جان سکیں کہ آزمائشوں سے بچنے کے لیے ہمیں سدی بندش کی ضرورت ہے۔

اپنے اور گناہوں کے درمیان دیواریں کھڑی کریں، چاہے وہ مباح (جائز) چیزیں ہی کیوں نہ ہوں، تاکہ آپ بڑی آزمائشوں سے محفوظ رہ سکیں۔


جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی رضا کے لیے ہر آزمائش کا سامنا کرتے ہیں۔

"جو اللہ کے لیے کسی چیز کو ترک کرتا ہے، اللہ اسے بہتر سے نوازتا ہے۔"


اللہ_ہمیں_محفوظ_رکھے۔