بات کرنے سے نسل کا پتہ چل جاتا ہے


بات کرنے سے نسل کا پتہ چل جاتا ہے ki


کسی زمانے میں ایک بادشاہ نے ایک قیدی کو کسی وجہ سے پھانسی کا حکم دیا اور جب قید خانے میں سے قیدی کو لایا گیا تو اس سے مرنے سے پہلے آخری خواہش پوچھی گئی قیدی نے کہا میں کیونکہ ایک اچھے گھرانے سے ہوں لہذا مجھے اعلی نسلی گھوڑوں سے پھانسی لگایا جائے
(اس زمانے میں پھانسی کے تخت پر چڑھا کر گھوڑوں سے بندھ کر گھوڑوں کو دوڑیا جاتا تھا اس طرح پھانسی کی سزا ہوتی تھی)خیر گھوڑوں کو لایا گیا تو قیدی بول اٹھا ان میں ایک تو نسلی ہے پر ایک نسلی نہیں ہے لہذا میری آخری خواہش مکمل نہیں ہوئی
بادشاہ نے گھوڑوں کے مالک کو بلوایا اور پوچھا کیا یہ بات سچ ہے گھوڑوں کے مالک نے جواب دیا بلکل ایک بلکل اصلی نسل کا لیکن دوسرا میں گدھے کا ملاپ شامل ہے بادشاہ نے حیران ہو کر قیدی سے پوچھا تمہیں کیسے یہ بات پتہ چلی کہ ایک گھوڑا نسلی ہے اور ایک نسلی نہیں۔
قیدی نے کہا جو نسلی ہے وہ بڑے آرام سے کھڑا تھا جبکہ جو ملاپ گدھے کا ہے وہ گدھے کی طرح کبھی ادھر ٹانگ مار کبھی منہ پھیر کبھی اچھل کر کبھی بیٹھ جا جس سے مجھے علم ہوا بادشاہ قیدی کی دانائی اور سوچ سے بڑا متاثر ہوا اور قیدی کی پھانسی منسوخ کر کے اپنے وزیر سے کہا اس کی ایک روٹی میں اضافہ کر دیا جائے
کچھ دن بعد بادشاہ کے دربار میں ایک سنار دو ہیرے لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کو کہا اگر آپ کی رعایا میں سے کوئی یہ بتا دے کہ ان میں کون سا ہیرا اصلی اور کون سا نقلی اور اس اصلی اور نقلی میں فرق بتا دے تو میں آپ کو دونوں ہیرے انعام میں دے دوں گا
بہت سے لوگوں سے پوچھا مگر کوئی مکمل جانچ نہ کر سکا بادشاہ کے دماغ میں قیدی کا خیال آیا بادشاہ نے اس کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا سپاہی قید خانے میں سے قیدی کو لے کر حاضر ہوئے اور قیدی کو ہیرے جانچ پڑتال کے لیے دئیے گئے قیدی نے کچھ ہی لمحوں میں بتا دیا کہ ایک اصلی اور دوسرا نقلی ہے بادشاہ نے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا ؟
قیدی نے کہا کہ اصلی ہیرا رگڑنے سے کبھی گرم نہیں ہوتا جبکہ نقلی ہیرا رگڑنے سے گرم ہو جاتا ہے سنار نے وہ دونوں ہیرے بادشاہ کو انعام میں دے دئیے اور چلتا بنا
بادشاہ قیدی کی دانائی اور سوچ پر بہت زیادہ خوش ہوا اور سپاہیوں سے ایک اور روٹی بڑھانے کا حکم دیا دوپہر کو جب سپاہی قیدی کو ایک اور روٹی اضافے کے ساتھ دینے آئے تو قیدی نے کہا بادشاہ بھی کسی لانگڑی کا بیٹا ہے سپاہیوں نے قیدی کی یہ بات بادشاہ تک پہنچا دی بادشاہ کو غصہ آیا اور سپاہیوں سے قیدی کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔
اور قیدی سے اس بات کی وضاحت مانگی گئی قیدی نے بادشاہ کو کہا اپنے خاندان کے بارے میں کسی سے پتہ کروا لو۔
بادشاہ کی سلطنت میں سب سے ادھیڑ عمر شخص کو ڈھونڈا گیا اور اس سے بادشاہ کے آباوواجداد کے بارے میں پوچھا گیا ادھیڑ عمر شخص نے بتایا کہ یہاں اس بادشاہ سے پہلے اس کا باپ بادشاہ تھا لیکن وہ بادشاہ بننے سے پہلے لانگر ی تھا کیونکہ اس بادشاہ سے پہلے ایک بادشاہ تھا اس کا اپنا کوئی بیٹا نہ تھا اس بادشاہ نے اعلان کیا تھا کوئی ایسا شخص جو میری رعایا کو بھوکا نہ مرنے دے تو آپ کا باپ لانگر ی تھا اس دربار کا اس نے حامی بھری کہ میں رعایا کو بھوک سے نہیں مرنے دوں گا اس طرح بادشاہ سلامت آپ کے باپ کو سلطنت دی گئی تھی
بادشاہ نے قیدی سے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں لانگر ی کا بیٹا ہوں
قیدی نے کہا کہ میں نے جتنے حکمت اور دانائی کی باتیں تمہیں بتاتا تم بجائے مجھے آزادی دینے یا ہیرے جواہرات دینے کی بجائے میری روٹی میں اضافہ کر دیتے تھے اگر تمہاری جگہ پر کوئی خاندانی شخص ہوتا وہ مجھے ضرور کوئی ہیرے جواہرات دیتا اور مجھے قید خانے سے رہا کرتا لیکن تیری حرکتیں تیری نسل کا پتا بتاتی ہیں

انسان اپنی شہرت پیسے شکل سے نہیں بلکہ اپنی حرکتوں سے اپنی نسل کا پتا بتاتی ہیں۔۔۔۔۔

غدار _چکور

#غدار_چکور

سلطان محمود غزنوی کے پاس ایک شخص ایک چکور لایا جسکا ایک پاوں نہیں تھا۔ جب سلطان نے اس سے چکور کی قیمت پوچھی تو اس شخص نے اس کی قیمت بہت مہنگی بتائی۔ سلطان نے حیران ہو کر اس سے پوچھا کہ اسکا ایک پائوں بھی نہیں ہے پھر بھی اس کی قیمت اتنی زیادہ کیوں بتا رہے ہو؟تو وہ شخص بولا کہ جب میں چکوروں کا شکار کرنے جاتا ہوں تو یہ چکور بھی شکار پر ساتھ لے جاتا ہوں۔  وہاں جال کے ساتھ اسے باندھ لیتا ہوں تو یہ بھہت عجیب سی آوازیں نکالتا ہے اور دوسری چکوروں کو بلاتا ہے۔  اس کی آوازیں سن کر بہت  سے چکور آ جاتے ہیں اور میں انہیں پکڑ لیتا ہوں۔ 

سلطان محمود غزنوی نے اس چکور کی قیمت اس شخص کو دے کر چکور کو ذبح کردیااس شخص نے پوچھا کہ اتنی قیمت دینے کے باوجود اس کو کیوں ذبح کیا؟ سلطان نے اس پر تاریخی الفاظ کہے:

"جو دوسروں کی دلالی کیلئے اپنوں سے غداری کرے اس کا یہی انجام ہونا چاہیے"

کرم دین چوکیدار

   کرم دین چوکیدا 

 اپنی سائیکل کے ہینڈل سے گوشت کی چند تھیلیاں لٹکائے تیز تیز پیڈل مارتا ہوا اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا اس کے چہرے پہ ایک انوکھی سی مسرت اور طمانیت کے آثار نظر آ رہے تھے ایک انتہائی غریب سے محلے میں پہنچ کر اس نے ایک گھر کے سامنے سائیکل روکی اور گھر کا دروازہ بجا دیا کچھ دیر بعد اندر سے ایک نسوانی آواز آئی کہ جی کون؟ باجی میں ہوں کرم دین چوکیدار۔۔۔! اس کے بلند آواز سے جواب دیتے ہی دروازہ کھلا اور دوپٹے کے پلو سے چہرہ ڈھانپے ایک عورت نظر آئی!
کرم دین نے نگاہیں جھکاتے ہوئے اس خاتون کو بڑے احترام سے سلام کیا حال احوال پوچھا عید کی مبارک باد دی اور گوشت کی ایک تھیلی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ لیں باجی یہ آپ کا حصہ ہے۔ 
اس عورت نے تھیلی لیتے ہوئے بڑے گلوگیر لہجے میں کرم دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کرم دین میں تیرا شکریہ ادا نہیں کر سکتی بس اللہ کے سامنے اپنے بچیوں کی یتیمی پیش کر کے تیرے لئے ہمیشہ خیر مانگتی رہتی ہوں یہ سن کر کرم دین کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اس نے جلدی سے چہرہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ بہن تجھے کتنی بار کہا ہے کہ ایسی باتیں نا کیا کر مجھے اچھا نہیں لگتا تو میری بہنوں کی طرح ہے اور تیری بیٹیاں مجھے اپنے بیٹیوں کی طرح ہی عزیز ہیں، اچھا میں اب چلتا ہوں مجھے اور گھروں میں بھی انکا حصہ پہنچانا ہے یہ کہہ کر وہ اس خاتون کا جواب سنے بغیر سائیکل پہ بیٹھا اور جلدی سے آگے بڑھ گیا۔
یہ حاکم علی مالی کا گھر تھا اور یہ خاتون حاکم علی کی بیوہ تھی کرم دین چوکیدار اور حاکم علی مالی ایک بہت بڑے سیٹھ کے بنگلے پہ کام کرتے تھے دونوں میں اگرچہ کچھ خاص تعلق نہیں تھا بس اچھی سلام دعا تھی اور روز آتے جاتے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھ لیتے تھے دونوں میں غریبی کے علاوہ ایک بات یہ بھی مشترک تھی کہ دونوں کی چار چار بیٹیاں ہی تھیں بیٹا کوئی نہیں تھا۔
ایک دن ایسا ہوا کہ حاکم علی کام پہ نا آیا یوں تو وہ پہلے بھی کئی بار چھٹی کر لیا کرتا تھا مگر آج شاید سیٹھ صاحب کے کچھ مہمان آنے تھے اس لئے انہوں نے کرم دین کو اسکا پتا کرنے کے لئے اس کے گھر بھیج دیا کرم دین وہاں پہنچا تو دیکھا کہ اس کے گھر تو گویا قیامت صغریٰ برپا تھی حاکم علی کی بیوی اور بیٹیاں دھاڑیں مار مار کے رو رہی تھیں حاکم علی رات سویا تو صبح اٹھا ہی نہیں وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو اس دنیا کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے سو چکا تھا۔
کرم دین بےچارہ خود بھی بہت غریب آدمی تھا اور بال بچے دار بھی مگر اس دن سے ہر چھوٹی بڑی عید پہ جتنا ہو سکتا تھا ان کے لئے کوئی نا کوئی چیز اور گوشت پہنچا دیا کرتا تھا کرم دین جب پہلی بار ان کے ہاں گوشت لے کر آیا تو حاکم علی کی بیوی نے روتے ہوئے کہا کہ کرم دین اللہ تیرا بھلا کرے آج میرے بچے ڈیڑھ دو سال بعد پہلی بار گوشت کھائیں گے بس یہ جملہ سننا تھا کہ اس کے دل پہ خنجر سے چل کے رہ گئے بس وہ دن تھا اور آج کا دن کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ ایسے چار پانچ اور گھروں کی بھی وقتا فوقتا مدد کرتا رہتا تھا۔
باقی گھروں میں بھی گوشت کی تھیلیاں پہنچا کر وہ واپس پلٹا تو کافی دیر ہو چکی تھی اس نے سائیکل موڑی اور اپنے گھر کی راہ پکڑ لی جیسے جیسے اس کا گھر نزدیک آ رہا تھا اس کے چہرے پہ پریشانی کے تاثرات بڑھتے جا رہے تھے رستے میں ایک جگہ ایک نلکے پہ رک کر اس نے سائیکل صاف کرنے والا کپڑا بھگو کر ہینڈل پہ لگے گوشت اور خون کے نشانات کو صاف کیا وہ شاید یہ نشانات اپنے گھر والوں سے چھپانا چاہتا تھا اور پھر وہ دوبارہ اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
یہ اس کا ہر سال کا معمول تھا کہ وہ صبح سویرے اپنے پرانے دھلے ہوئے کپڑے پہن کر عید کی نماز پڑھنے اپنی کچی بستی سے بہت دور شہر کے سب سے بڑے محلے میں جاتا اور عید کی نماز کے بعد لوگوں کے گھروں سے گوشت جمع کرنا شروع کر دیتا گو کہ وہ ذاتی طور پہ بہت خوددار انسان تھا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا اس کے لئے مر جانے کے برابر تھا مگر حاکم علی کی بیوہ اور یتیم بچیوں کی خاطر وہ یہ کام بھی کر گزرتا وہ دوپہر تک گوشت جمع کرتا اور دوپہر کے بعد ان گھروں میں جا کے دے آتا اور وہ لوگ یہی سمجھتے کہ شاید کرم دین کی اپنی قربانی ہوتی ہے۔
اور واقعی یہ کرم دین کی قربانی ہی تھی وہ اپنی عزت نفس اور خودداری کے گلے پہ چھری پھیر کر ہی ان کے لیے لوگوں کے سامنے دامن پھیلا کر گوشت اکٹھا کیا کرتا تھا اور ظاہر ہے اس کے لئے اس سے بڑی قربانی اور کیا ہوسکتی تھی۔ 
سال سال بعد کرم دین کی بدولت گوشت کا مونہہ دیکھنے والے یہ کب جانتے تھے کہ خود کرم دین کے گھر سال کے بعد بھی گوشت نہیں پکتا کئی بار کرم دین کے جی میں آیا بھی کہ وہ ایک آدھ تھیلی اپنے گھر بھی لے جائے مگر ہر بار اس کا ضمیر اسکے آڑے آجاتا اور اپنے بچوں کو یہ گوشت چاہتے ہوئے بھی نا کھلا پاتا۔
کرم دین کی بستی قریب آچکی تھی اس نے اپنی آنکھوں کی نمی کو لوگوں سے نظریں بچا کر صاف کیا اور اپنے درد و الم کو چہرے کے مصنوعی تاثرات سے چھپانے کی کوشش کرتا ہوا اپنی گلی میں مڑ گیا۔ اب اس کے سامنے اس کے اپنے گھر کا دروازہ موجود تھا جس کے اس پار غربت و افلاس کا لبادہ اوڑھے اس کی بیوی اور بیٹیاں اس کی منتظر تھیں۔
کرم دین نے کچھ لمحے توقف کر کے دروازہ بجا دیا اس کی چھوٹی بیٹی نے دروازے کی درز میں سے اپنے باپ کو دیکھ کر دروازہ کھول دیا کرم دین سر جھکائے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہو گیا اس نے اسی طرح اونچی آواز میں سب کو سلام کر کے سر اٹھایا تو دیکھ کے حیران رہ گیا کہ اس کے صحن کے بیچوں بیچ کھانے پکانے کے سامان کا ڈھیر لگا ہوا ہے اور ساتھ ہی ایک تھیلے میں اچھا خاصا گوشت بھی پڑا ہوا ہے۔
کرم دین نے حیرت سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ یہ سب کہاں سے آیا؟ اسکی بیوی بولی کہ ایک بہت بڑی گاڑی میں کوئی بڑا آدمی آیا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ وہ آپ کو جانتا ہے اور ساتھ میں ایک چٹھی بھی دے کر گیا ہے میں نے سامان تو اس کے اصرار پہ رکھ لیا مگر اب آپ کے انتظار میں ہی تھی اور ساتھ ہی ایک لفافہ کرم دین کی طرف بڑھا دیا کرم دین نے جلدی سے لفافہ کھولا اور اس میں موجود چٹھی پڑھنے لگ گیا
سلام دعا کے بعد لکھا تھا کہ۔۔۔ 
یار کرمے میں تجھے ایک عام سا بندہ سمجھتا رہا مگر تو تو بہت بڑا آدمی نکلا، اتنا بڑا کہ تیرے سامنے مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہونے لگا ہے۔ مجھے تیرے بارے میں کچھ باتیں کہیں سے پتا چلیں تھیں پھر میں نے سارا دن تیرا پیچھا کیا اور حاکم علی کے گھر تک جا پہنچا وہاں سے مجھے تیرے بارے میں باقی سب پتا چل گیا اور جب تیرے گھر آیا تو پتا چلا کہ تیرے اپنے گھر کے حالات بھی بالکل انہی لوگوں جیسے ہیں
کرمے یہ کچھ چیزیں عید کا تحفہ سمجھ کر قبول کر لے تجھے اللہ کا واسطہ انکار نا کرنا آج سے تیرا اور باقی پانچوں گھروں کا سارا خرچ میرے ذمہ ہوا باقی باتیں شام کو بنگلے پہ کرتے ہیں اور ہاں آج ڈیوٹی پہ ذرا جلدی آ جانا۔ منجانب ''تیرا سیٹھ''
کرم دین کی آنکھوں سے آنسو نکل کر چٹھی کی تحریر بگاڑ رہے تھے اور اسکی زبان پہ بے اختیار جاری تھا۔۔۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد ۔“ 

قابل عزت

*کیا میں قابلِ عزت ھوں؟* حصہ دوئم

تحریر:-عزیزخان ایڈووکیٹ لاہور 

 میرے سابقہ افسران بالا نے میری پچھلی تحریر دیکھی اور پڑھی اُنہیں یہ لگا کہ میں نے کسی خاص افسر کی ذات پر بات کی ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی لیکن اگر وہ یہ سمجھتے ہیں  کہ اُن کے ہاتھ میں کسی کی نوکری ، عزت، ذلت، پروموشن، اور بچوں کا مُستقبل ہے تو وہ بلکُل غلط ہیں 
اس تحریر کو پڑھنے کے بعد میرے بارے میں انکوائری کرائی گی کہ 1982 کا کون Asi ہے جس نے ایسی گُستاخی کی ہے آخر  کار مجھے ٹریس کر لیا گیا مجھے یہ بھی جتلایا گیا کہ میری پولیس میں بھرتی اِسی  Psp کلاس کی مرہون منت تھی 

میں بلکل تسلیم کرتا ہوں لیکن شاید اُن کو یاد نہیں کہ مارشل لا کے اُس دور میں کسی کی جُرت نہیں تھی کہ دھاندلی یا سفارش سے بھرتی کرتا ہر رینج کی سلیکشن ڈیپٹی مارشل لا ایڈمنیسٹیٹر خود دیکھتا تھا ورنہ میں اور میرے دوست جن کی کوئی سفارش نہیں تھی پولیس میں بھرتی نہ ہو سکتے؟
انٹرویو میں رات کو Dig صاحبان دوسری رینج میں جایا کرتے تھے تاکہ کوئی سفارش نہ مانیں 
اور پھر ایسا کیا ہوا کہ انہیں تمام ایماندار افسران کے ہوتے ہوئے نواز شریف نے اپنے سیاستدانوں کے ذریعے بغیر کسی امتحان اور انٹرویو کے بھرتی کروائی جن میں کُچھ جرائم پیشہ افراد بھی تھے جس کی نشاندہی  سابقہ آئی جی عباس خان نے اپنی رپورٹ میں کی تھی 
مزا تو تب تھا کہ اُس وقت کے آئی جی اور ڈی آئی جیز ان بھرتیوں سے انکار کر دیتے یا پھر اُن کو نوکریوں سے نکال دیتے ؟

میری پوری زندگی اور سروس کا نچوڑ ہے  کہ عزت ذلت زندگی موت پوسٹنگ ٹرانسفر صرف اللہ کے ھاتھ میں ہےجہاں آپ نے جانا ہے رہنا  ہے کھانا ہے لکھ دیا گیا ہے اور ھم سب اُسی رب کی ذات کے مُحتاج ہیں

میں پہلے بھی اپنی ایک پوسٹ میں لکھ چُکا ہوں کہ میری تنقید کسی ایک شخص یا کسی آفسر کی ذات پر نہیں بلکہ اس بوسیدہ سسٹم پر ہے جس کا ہم شکار ہیں  اور انگریز کے بنائے نظام کے غلام ھیں

 ہمارے ایک ریٹائرڈ ڈی ایس پی دوست کے بیٹے کی شادی پر بہُت سے حاضر سروس اور ریٹائرڈ پولیس ملازمین  دوستوں سے مُلاقات ہوئی  جنہوں نے میری اس کاوش کو سراہا اور دل ہی دل میں نہیں بلکہ مُنہ پر تعریف کی کیونکہ اُن کو وہاں کوئی خطرہ نہ تھا ورنہ یہ تو سب دل ہی دل میں تعریف کرنے سے ہی ڈرتے ہیں  حالانکہ یہ ان کے دل کی آواز ہے 

میری  آج کی تحریر کا مقصد ہماری عوام کو یہ بتلانا مقصود ھے کہ اُن کے ذہن  میں جو پولیس کے خلاف موروثی نفرت ھے وہ غلط ھے میرے بہت سے دوست میری اس بات سے شاید اتفاق نہ کریں  
کہ پولیس ملازمان بھی انسان ھیں اُن کی ضروریات ھیں ان ی فیملی لائف ہے بچے ہیں پر شاید اُنہیں روبوٹ سمجھا جاتا ہے جو صرف ظُلم کرتے ھےں یا گالیاں بکتے ھیں

سارے پولیس ملازمین ایسے ہرگز نہیں ہیں نہ ہی بُرے ہیں گھر سے دوری بچوں کی تعلیم کا فکر 24 گھنٹہ ڈیوٹی میڈیکل سہولتوں کا نہ ہونا افسران کی گالیاں اور بد تمہیزیاں بھی ان کی عوام سے زیادتی کا سبب ہو سکتی ہیں 

اب اس بات کو تسلیم کیا جا رھا ھے کہ محکمہ پولیس کا بوسیدہ نظام ختم ھونا چاھیے تفتیش مقدمات اور فیلڈ میں تجربہ اور تعلیم کی مساوی اہمیت ہو  صرف تعلیم کی بنیاد پہ css کرنے والی PSP کلاس عقلِ کُل نہیں کہ اُسے ایک ایم اے پاس انسپکٹر  یا Dsp پر فوقیت دی جائے جن کا تجربہ اُن کی عمروں  سے زیادہ ہوتا ہے  
آپ لوگ اس بات پر غور کریں کہ مقدمات کی تفتیش صرف Asi ,Si,Inspectors  ھی کرتے ھیں
اے ایس پی حضرات کا تجربہ بلکل نہیں ھوتا ایک سال کی ملازمت کے بعد وہ حلقہ افسر لگا دیے جاتے ھیں اور 30/30 سال پرانے تجربہ کار تفتیشی افسران اُن کے سامنے دست بدستہ  کھڑے ھوتے ھیں اور ان کی جُرت نہیں کہ ان کی حُکم عدولی کر سکیں 

پھر یہی اے ایس پی تین سال بعد ایس پی ھو کہ کسی ضلع میں سکیل 18 کے Dpo لگا دیے جاتے ھیں جبکہ  Dpo سکیل 19 کا ھونا ضروری ھے 

شہباز شریف نے جہاں پنجاب کو فتح کرنے کیلئے جہاں کئی تاریخی کام کیے وھاں یہ کام بھی کیا کہ سکیل 18 کے Dpo اور Dco اضلاع میں تعینات کر دیے تاکہ وہ احسان مند رہیں ، ڈرے رہیں اور بوقت ضرورت انہیں رگڑا بھی لگایا جا سکے
 مُلک میں تبدیلی آئی مگر صرف چہرے بدلے پالیسیاں وہی ہیں پنجاب میں گریڈ 19 کے ایس ایس پی ہوتے ہوئے آج بھی ناتجربہ کار گریڈ 18 کے ایس پی بطور Dpo اور Dco تعینات ہیں جو ضلع چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے 

جب تین چار سالہ نا تجربہ کار Dpo کسی ضلع میں تعینات ھوتا ھے تو وہ کیا حرکات کرتا ھے؟
یہ محکمہ پولیس کے ملازمان تو جانتے ھیں کاش آپ بھی جان پاتے کہ کروڑوں روپے کے فنڈز ان کے ( رحم کرم) پر ھوتے ھیں جنکا کوئی ایکسٹرنل آڈٹ نہیں ہوتا اور جو آڈٹ ھوتا ھے اُس کا بھی کوئی آڈٹ نہیں ہوتا ؟؟

محکمہ پولیس میں ملازمت کرنے والے یہ چھوٹے ملازمین جب 60 سال پورے کرنے کے بعد ریٹائر ھوتے ھیں تو ان کا اپنا ذاتی گھر تک نہیں ھوتا اور ان ملازمین  کو ملنے والی رقم اتنی کم ھوتی ھے کہ اس سے نہ تو کوئی کاروبار کیا جا سکتا ہے نہ پلاٹ لے کر اپنا گھر بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں کی شادیاں کر سکتے ہیں 

محکمہ پولیس میں سزا دینے کا نظام بہُت تیز ھے پر یہ سزا صرف رینکرز ملازمان کے لیے ہے 
میں نے اپنی 37 سالہ ملازمت میں اور بطور Dsp کبھی کسی Asp یا Psp افسر کو اپنے ساتھ نہ تو کسی اردلی روم میں پیش ھوتے دیکھا نہ اُنہیں کبھی سزا ملتے دیکھی اور نہ اُن کی کبھی پروموشن رُکی؟ 

پولیس ریفارمز کی باتیں کرنے وال 72 سال سے خاموش ہیں جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے یہ سب جاگ جاتے ہیں  کالی بھیڑوں کو نکالنے کی باتیں دعوے  کیے جاتے ہیں
سفید بھیڑیے کالی بھیڑوں کی قُربانی کے بعد اپنے آقاوں کو مطمعن کرتے ہیں اور بار بار ایک ہی کہانی دُہرائی جاتی ہے 
پالیسیاں بناتے وقت جو افسران فیلڈ میں کام کرتے ہیں اُن سے پوچھا تک نہیں جاتا اُن کو سُنا تو جائے کہ اُن کے کیا مسائل ہیں ؟

میری لکھی گئیں یہ تمام باتیں میرے اور میرے ساتھ ملازمت کرنے والے ملازمین کے دل کی آواز ہیں جو نہ کبھی اُٹھائی گئیں نہ سُنی گئیں میں نے تو یہ محکمہ چھوڑ دیا پر ایک دن آئے گا جب یہ آواز اُٹھائی بھی جائے گی  اور سُنی بھی جائے گی

جج یا چوہدری

دونوں فریق پہنچ چکے تھے ڈیرے کی چارپاٸیاں کم پڑ گٸی تھیں ملازم ڈیرہ کے کمرہ میں پڑی دو چار کرسیاں بھی اٹھا لایا
اسی دوران ہی چوہدری صاحب دھوتی کرتا پہنے حقہ ہاتھ میں تھامے سلام کرتے ہوے جج کی کرسی کی طرح سامنے رکھی چارپاٸی پر بیٹھ گٸے اور اپنے ملازم بوٹے کو آواز لگاتے ہوے کہا بوٹے سب کے لیے فسکلاس سی چاۓ بنا کرلاٶ
جس بھاٸی نے حقہ کا کش لگانا ہو وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ سکتا ھے یہ کہکر چوہدری صاحب نذیرے سے مخاطب ہوے ہاں نذیرے اپنی بات سناٶ
نذیرے نے بات شروع کرتے ہوے کہا چوہدری صاحب آپکو پتہ ہی ھے کے میں نے اپنی بیٹی کی شادی مختارے کے بیٹے کے ساتھ کی تھی دونوں میں روز لڑاٸی جھگڑا رہتا تھا لڑکا نشہ کرتا تھا اور اپنی بیوی کو خرچہ پانی بھی نہیں دیتا تھا سمجھایا بجھایا بھی بہت مگر سدھرا نہیں مجبوری میں ہم نے عدالت کے ذریعے طلاق لے لی اب لڑکی کا سامان جہیز ان کے گھر پڑا ھے مختارا سامان جہیز واپس نہیں کر رہا میں نے بیٹی کو آگے کسی کے گھر بٹھانا ھے بغیر سامان کے کوٸی کنواری لڑکی کا رشتہ نہیں لیتا میری بیٹی تو پھر طلاق یافتہ ھے اور دوسری بار پھر نیا سامان جہیز بناٶ اتنی میری پسلی نہیں
چوھدری صاحب نے حقہ کا لمباکش لگاتے ہوے کہا طلاق تو عدالت سے لے لی مگر سامان جہیز عدالت سے کیوں نہیں لیا
نذیرے نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوے کہا چوہدری صاحب کیا بتاٸیں کیس تو سامان واپس لینے کا بھی کر رکھا ھے مگر سال ہو گیا ھے کیس ابھی ہماری شہادت پر ہی چل رھا ھے اور مختارا کہتا ھے ابھی تو فیملی کورٹ میں کیس ھے پھر سیشن کورٹ ہاٸیکورٹ سپریم کورٹ میں تمہاری زندگی رول دونگا برباد کر دونگا مگر سامان نہیں دونگا طلاق یافتہ بیٹی گھر بٹھا کر میری ایک ایک رات سال کیطرح گزر رہی ھے چوہدری صاحب مجھ پر نیکی کر کے سامان واپس دلوا دیں نذیرا تقریباً رو ہی دیا تھا
چوہدری صاحب پھر مختارے سے مخاطب ہوے ہاں مختارے تو بول تو کیا کہتا ھے مختارے نے عدالت میں دیے گۓ بیان کی طرح کہا چوہدری صاحب ہمیں تو کوٸی سامان ملا ہی نہیں اور باقی یہ خود ہی عدالت میں گٸے ہیں عدالت سے ہی کرواٸیں فیصلہ اب
چوہدری صاحب نے مختارے کی جانب گھوری ڈالتے ہوے کہا زیادہ چالاک بننے کی ضرورت نہیں یہ پنچایت ھے عدالت نہیں اور باقی مجھے سب کچھ سچ سچ اگلوانا خوب اچھی طرح آتا ھے اگلے ہی لمحے مختارا سب کچھ سچ سچ مان چکا تھا اور سامان واپس کرنے پر بھی رضا مند ہو گیا تھااس دوران ہی چاۓ آ گٸ سب معاملہ نمٹا کر چاۓ پینے لگے مختارا بولا چوہدری صاحب آپکے ڈیرہ کی چاۓ بڑی کمال کی ہوتی ھے چوہدری صاحب کہنے لگے کل ہم سب تمہارے گھر کی چاۓ پینے آٸینگے سامان بھی تیار رکھنا
اگلے دن مختارے کے گھر سے سامان وصول کروا کر چوہدری صاحب نے نذیرے کو کہا اب عدالت جاکر اپنا کیس واپس اٹھا لاٶ
نذیرا جب کیس واپس لینے عدالت گیا اسے چوہدری کا کچہ پکا ڈیرہ پختہ عدالتی بلڈنگ سے کہیں زیادہ خوبصورت لگا اور جب اس نے انگریزی سوٹ بوٹ میں ملبوس جج کی کرسی کی جانب نظر دوڑاٸی اسے چارپاٸی پر دھوتی کرتے میں ملبوس حقہ پیتا چوہدری یاد آ گیا وہ سوچنے لگا جج تو چوہدری ہوتے ہیں سردار ہوتے ہیں عدالتوں کے بابو تو تاریخیں دیکر تنخواہ وصول کرنے آتے ہیں جب کیس سامان جہیز کا چل رہا ہو تو اس کا مطلب ہوتا ھے کسی بوڑھے کی طلاق یافتہ بیٹی اس سامان جہیز کے فیصلہ کے انتظار میں اپنے بوڑھے ماں باپ کے کندھوں پر مزید بوجھ بن کر بیٹھی ھے خدارا ایسے کیسوں کے فیصلے جج بن کر نہیں چوہدری، سردار یا ملک بن کر کر دیا کرو۔۔۔

ایک سچا واقعہ

*ایک ایسا سچا واقعہ جس کو پڑھنے سے بندے کا ایمان  تازہ  ھوجائے.*

عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا۔ پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کے لئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا۔ ان ہی دنوں عبد اللہ طاہر نے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ 

اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان (عبد اللہ طاہر) کو اسکی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا۔ اب یہ گھبرائے اگر امیر کو معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا۔ اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ (لوہار) نظر آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس بےگناہ شخص کوفوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیا۔ امیرخراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اس لئے مزید کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر سب کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔

نیک سیرت لوہار سمجھ گیا کہ اب میرا معاملہ صرف اللہ جل شانہ کی بارگاہ سے ہی حل ہوسکتا ہے اور میرا مقصد اسی کے کرم سے حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا اس نے وضو کیا اور قید خانہ کے ایک گوشہ میں نماز پڑھنا شروع کردی۔ ہر دو رکعت کی بعد سر سجدہ میں رکھ کر اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں رقت انگیز دعائیں اور دل سوز مناجات شروع کردیتا اور کہتا۔ ’’ اے میرے مالک! تو اچھی طرح جانتا ہے میں بےقصور ہوں‘‘۔ جب رات ہوئی تو عبد اللہ طاہر نے خواب دیکھا کہ چار بہادر اور طاقتور لوگ آئے اور سختی سے اس کے تخت کے چاروں پایوں کو پکڑکر اٹھایا اور الٹنے لگے اتنے میں اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس نے فوراً لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھا۔ پھر وضو کیا اور اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں دو رکعت نماز ادا کی جس کی طرف ہر شاہ و گدا اپنی اپنی پریشانیوں کے وقت رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ سویا تو پھر وہی خواب دیکھا اس طرح چار مرتبہ ہوا۔ ہر بار وہ یہی دیکھتا تھا کہ چاروں نوجوان اس کے تخت کے پایوں کو پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور الٹنا چاہتے ہیں۔امیر خراسان عبد اللہ طاہر اس واقعہ سے گھبرا گئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ ضرور اس میں کسی مظلوم کی آہ کا اثر ہے جیسا کہ کسی صاحب علم و دانش نے کہا ہے:
نکند صد ہزار تیر و تبر
آنچہ یک پیرہ زن کند بہ سحر
ای بسا نیزۂ عدد شکناں 
ریزہ گشت از دعاے پیر زناں
یعنی لاکھوں تیر اور بھالے وہ کام نہیں کر سکتے جو کام ایک بڑھیا صبح کے وقت کردیتی ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ دشمنوں سے مردانہ وار مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے والے، بوڑھی عورتوں کی بد دعا سے تباہ وبرباد ہوگئے۔

امیر خراسان نے رات ہی میں جیلر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ بتاؤ! تمہارے علم میں کوئی مظلوم شخص جیل میں بند تو نہیں کردیا گیا ہے؟ جیلر نے عرض کیا۔ عالیجاہ! میں یہ تو نہیں جانتا کہ مظلوم کون ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ میں ایک شخص کو دیکھ رہا ہوں جو جیل میں نماز پڑھتا ہے اور رقت انگیز و دل سوز دعائیں کرتا ہے۔

امیر نے حکم دیا: اسے فوراً حاضر کیا جائے۔ جب وہ شخص امیر کے سامنے حاضر ہوا تو امیر نے اس کے معاملہ کی تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ وہ بے قصور ہے۔امیر نے اس شخص سے معذرت کی اور کہا: آپ میرے ساتھ تین کام کیجئے۔
نمبر۱۔ آپ مجھے معاف کردیں۔
نمبر۲۔ میری طرف سے ایک ہزار درہم قبول فرمائیں۔
نمبر۳۔ جب بھی آپ کو کسی قسم کی پریشانی درپیش ہو تو میرے پاس تشریف لائیں تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔

نیک سیرت لوہار نے کہا: آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ میں آپ کو معاف کردوں تو میں نے آپ کو معاف کردیا اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ ایک ہزار درہم قبول کرلوں تو وہ بھی میں نے قبول کیا لیکن آپ نے جو یہ کہا ہے کہ جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہو تو میں آپ کے پاس آؤں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔

امیر نے پوچھا: یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ وہ خالق و مالک جل جلالہ جو مجھ جیسے فقیر کے لئے آپ جیسے بادشاہ کا تخت ایک رات میں چار مرتبہ اوندھا کر سکتا ہے تو اسکو چھوڑ دینا اور اپنی ضرورت کسی دوسرے کے پاس لے جانا اصولِ بندگی کے خلاف ہے۔ میرا وہ کون سا کام ہے جو نماز پڑھنے سے پورا نہیں ہو جاتا کہ میں اسے غیر کے پاس لے جاؤں۔ یعنی جب میرا سارا کام نماز کی برکت سے پورا ہوجاتا ہے تو مجھے کسی اور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔ 

(ریاض الناصحین ص:۱۰۵،۱۰۴)
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیرا کثیرا.

مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ

حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ ہندوستان
میں رام پور جیل میں تھے، جیل میں اناج دیا گیا کہ ان کا آٹا پسواو ، 
کہا گیا عطاء اللہ تم باغی ہو اس لئے تمہاری یہی سزا ہے کہ تم آج چکی پیسو۔

عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے مزہ آیا، میں نے رومال اتار کر رکھ دیا، وضو کرکے بسم اللہ پڑھ کر میں نے چکی بھی پیسنی شروع کر دی، اور ساتھ میں سورہ یاسین کی تلاوت بھی شروع کر دی۔

عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے قرآن کو آواز کے ساتھ پڑھنا شروع کیا تو اس وقت جیل کا سپریٹینڈینٹ قریب تھا وہ  نکل کر آیا اور قریب آکر روتا ہوا کھڑا ہو گیا اور جیل کا دروازہ کھلوا دیا،
کہنے لگا،

عطاء اللہ تجھے تیرے نبی کی قسم، بس کر
اگر تو نے دو آیتیں اور پڑھ لی تو میرا جگر پھٹ جائے گا۔

" یہ تھا انگریز پر قرآن سننے کا اثر ۔“

 اللہ حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قبر کو نور سے منور فرما آمین۔