اشاعتیں

اگست, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بیتے زمانے

تصویر
 #بیتے_زمانے "کاش کے وہ جہالت پھر لوٹ آئے " ہم نے جب اپنے معاشرے میں آنکھ کھولی تو ایک خوبصورت جہالت کا سامنا ہوا ۔ ہمارا گاوں سڑک، بجلی اور ٹیلی فون جیسی سہولتوں سے تو محروم تھا لیکن اطمینان اس قدر تھا جیسے زندگی کی ہر سہولت ہمیں میسر ہو ۔ کائنات کی سب سے خوبصورت چیز جو میسر تھی وہ تھی محبت ۔ کوئی غیر نہیں تھا سب اپنے تھے ۔ نانیال کی طرف والے سب مامے، ماسیاں، نانے نانیاں ہوا کرتی تھیں ۔ ددیال کی طرف والے سارے چاچے چاچیاں، پھوپھیاں دادے دادیاں ہوا کرتی تھیں ۔۔  یہ تو جب ہمیں نیا شعور ملا تو معلوم پڑا کہ وہ تو ہمارے چاچے مامے نہ تھے بلکہ دوسری برادریوں کے لوگ تھے ۔  ہمارے بزرگ بڑے جاہل تھے کام ایک کا ہوتا تو سارے ملکر کرتے تھے ۔ جن کے پاس بیل ہوتے وہ خود آکر دوسروں کی زمین کاشت کرنا شروع کر دیتے ۔ گھاس کٹائی کے لیے گھر والوں کو دعوت دینے کی ضرورت پیش نہ آتی بلکہ گھاس کاٹنے والے خود پیغام بھیجتے کہ ہم فلاں دن آ رہے ہیں ۔ پاگل تھے گھاس کٹائی پر ڈھول بجاتے اور اپنی پوری طاقت لگا دیتے جیسے انہیں کوئی انعام ملنے والا ہو ۔ جب کوئی گھر بناتا تو جنگل سے کئی من وزنی لکڑ دشوار راستو...

مٹتا ہوا لاہور

تصویر
 لاہور جو ایک شہر تھا۔۔۔۔۔ لاہور  ناشپاتیوں، سنگتروں، مٹھوں، آڑوؤں، اناروں اور امرودوںکے باغات میں گھرا ہوتا تھا۔  موتیے اور گلاب کے کھیت عام تھے۔  حتیٰ کہ سڑکوں کے اطراف بھی گلاب اُگے ہوتے،  جنہیں لاہور کے گردا گرد چلنے والی نہر سیراب کرتی۔  گلاب کے پھول لاہور سے دہلی تک جاتے۔  صحت بخش کھیلوں اور سرگرمیوں کا رواج تھا۔  نوجوان رات دس گیارہ بجے تک گتکا سیکھتے۔  اسکولوں میں گتکے کا باقاعدہ ایک پیریڈ ہوتا۔  تب شیرانوالا کے حاجی کریم بخش لاہور کے مشہور گتکاباز تھے،  اور گورنمنٹ کنٹریکٹر موچی دروازہ کے میاں فضل دین مشہور بٹیرباز۔  تقریبات کو روشن کرنے کے لیے حسّا گیساں والا بھی لاہور کی معروف شخصیت تھے۔  خوشی، غمی، جلسوں، جلوسوں، میلوں ٹھیلوں اور شادی بیاہ کی تقریبات حسّا گیساں والے کے گیسوں سے جگمگ کرتیں۔  شادی کی رونق سات سات دن جاری رہتی۔  لاہور میں بناسپتی گھی رائج ہوا تو بہت کم لوگ اسے استعمال کرتے، وہ بھی چھپ کر۔  کوئی شادی پر بناسپتی گھی استعمال کرتا تو برادری روٹھ جاتی۔  جب چائے کا عادی بنانے کے لی...

ٹیپو شلطان

تصویر
 "شیرِ میسور  ٹیپو سُلطان" شیرِ میسور سلطان ٹیپو نے ۴؍ مئی ۱۷۹۹ء کو فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر قلعے کی فصیل کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں سلطان نے دیوار کے شگاف کو دیکھا اور اس کو درست کرنے کے احکام صادر کیے۔ فصیل پر بیٹھنے کے لیے ایک سائبان لگانے کا حکم دیا اور محل میں واپس آ گئے۔ تقریباً دس بجے چند نجومی حاضر ہوئے اور سلطان سے کہا کہ :’’ آج کا دن آپ کے لیے بہت منحوس ہے اور خاص طور پر دوپہر کا وقت، بہتر یہ ہے کہ آپ سارا وقت اپنے سرداروں اور وزیروں کے ساتھ بسر کریں اور نحوست کو ٹالنے کےلیے زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات ادا کریں۔‘‘                                                             نجومیوں کی یہ پیشین گوئیاں سُن کر سلطان نے صدقہ و خیرات کے سازوسامان تیار کرنے کا حکم دیا اور غسل کرنے کے بعد سونے، چاندی اور جواہرات درویشوں اور برہمنوں میں تقسیم کیے۔ جب کہ غریبوں،  محتاجوں اور مسکینوں میں روپیہ اور...

آخری مغل بادشاہ

تصویر
 "آخری مُغل بادشاہ" یہ ۱۲۷۳ ہجری رمضان المبارک کی۱۶ تاریخ ہے، شہرِ دہلی میں عیسوی کے اعتبار سے ۱۱ مئی ۱۸۵۷ کا یہ دن اپنے اعتبار سے گرم اور خُشک ہے۔ موسم گرما اپنے عروج کی طرف گامزن ہے۔ طلوعِ آفتاب کے بعد صبح سات بجے  کے قریب مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر  لال قلعے  میں ندی کے کنارے تسبیح خانے میں اشراق کی نماز پڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران ان کو اپنے بائیں جانب دریا ئے جمنا کے پیچھے، کشتیوں کے لئے بنائے گئےپُل کے پچھلے کنارے پرٹُول ہاؤس سے دھوئیں کے بادل اُٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ منظر دیکھ کر بہادر شاہ ظفر میر فتح علی کو زور دار آواز سے مخاطب کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی لال قلعے سے ایک ہرکارہ ٹول ہاؤس کی جانب نہایت برق رفتاری سے روانہ ہوتا ہے تا کہ معلوم کیا جا سکے کہ آخر یہ دھواں کس وجہ سے اُٹھ رہا ہے؟ ہرکارہ واپس آ کر بادشاہ کو آگاہ کرتا ہے کہ وہ ابھی راستے میں ہی تھا کہ وہ کیا دیکھتا ہے کہ انگریزی فوج کی وردی میں ملبوس کچھ ہندوستانی سوار برہنہ تلواروں کے ساتھ دریائے جمنا کا پل عبور کر چکے ہیں اور انھوں نے دریا کے مشرقی کنارے پر واقع ٹول ہاؤس کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی ہ...

گمنامہیرو

تصویر
 گمنام ہیرو ایک ایسا عظیم شخص جس نے 1994ء میں کنگ فیصل ایوارڈ کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرایا کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے لکھا ہے لہذا مجھ پر میرے دین کو خراب نہ کریں۔ ایک ایسا عظیم شخص جس نے فرانس کی نیشنیلٹی کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی کہ مجھے اپنی مٹی اور اپنے وطن سے محبت ہے. ایک ایسا عظیم شخص جس کے ہاتھ پر 40000 غیر مسلموں نے کلمہ طیبہ پڑھا۔ ایک ایسا عظیم شخص جو 22 زبانوں کا ماہر تھا اور 84 سال کی عمر میں آخری زبان تھائی سیکھ لی تھی. ایک ایسا عظیم شخص جس نے مختلف زبانوں میں 450 کتابیں اور 937 علمی مقالے لکھے۔ ایک ایسا عظیم شخص جو اس قدر علمی مقام رکھنے کے باوجود اپنے برتن اور کپڑے خود دھوتے تھے۔ ایک ایسا عظیم شخص جسے 1985 میں پاکستان نے اعلی ترین شہری اعزاز ہلال امتیاز سے نواز تو اعزاز کے ساتھ ملنے والی رقم جو ایک کروڑ روپے بنتی تھی اس رقم کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات اسلامی کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ اگر اس فانی دنیا میں یہ اعزاز وصول کیا تو پھر باقی رہنے والی زندگی کے لئے کیا بچے گا۔ ایک ایسا عظیم شخص جس نے حدیث کی اولین کتاب جو 58 ہجری میں لکھی...

دس روپے کا ڈاکہ

 ‏استاد نے اپنے شاگردوں سے سوال کیا، اگر تمہارے پاس 86،400 روپے ہوں اور کوئی ڈاکو ان میں سے 10 روپےچھین کر بھاگ جائے تو تم کیا کرو گے؟ کیا تم اُس کے پیچھے بھاگ کر اپنی لوٹی ہو ئی 10 روپےکی رقم واپس حاصل کرنے کی کوشش کرو گے؟ یا پھر اپنے باقی کے بچے ہوئے 86،390 روپےکو حفاظت سے لیکر اپنے راستے پر چلتے رہو گے؟ ھم 10 روپے کی حقیر رقم کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے باقی کے پیسوں کو حفاظت سے لیکر اپنے راستے پر چلتے رہیں گے، استاد نے کہا، تمہارا بیان اور مشاہدہ درست نہیں، میں نے دیکھا ہے کہ ذیادہ تر لوگ اُن 10 روپے کو واپس لینے کے چکر میں ڈاکو ‏کا پیچھا کرتے ہیں اور نتیجے کے طور پر اپنے باقی کے بچے ہوئے 86،390 روپے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ طلباء نے حیرت سے استاد کو دیکھتے ہوئے کہا، سر، یہ ناممکن ہے، ایسا کون کرتا ہے؟ استاد نے کہا یہ 86،400 اصل میں ہمارے ایک دن کے سیکنڈز ہیں کسی 10 سیکنڈز کی بات کو لیکر، ‏یا کسی 10 سینکنڈز کی ناراضگی اور غصے کو بنیاد بنا کر ہم باقی کا سارا دن سوچنے،  جلنے اور کُڑھنے میں گزار کر اپنا باقی کا سارا دن برباد کرتے ہیں یہ والے 10 سیکنڈز ہمارے باقی  بچے ...

بھوج پتھر

تصویر
 بھوج پتر بھوج پتر انتہائی بلند برفانی علاقوں میں پایا جانے والا ایک خود رو اور اپنی نوعیت کا ایک عجیب، منفرد اور کار آمد جنگلی درخت ہے۔ اس کو انگریزی میں Birch ، عربی میں "بتولا" اور شنیا میں کاغذ کو "جوش" اور اس کے درخت کو "جونزی" کہتے ہیں۔ یہ درخت وادی نیلم کے بلند علاقوں خصوصاً گریس کے اونچے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ پھولاوئی سے آگے "سروگہ" اور "گوجر گہ" دونوں نالوں میں پایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ ان سے ملحق استور کے سرحدی علاقوں تک چلا جاتا ہے۔ اسی طرح چلاس، گلگت اور غذر کے بالائی علاقوں اور چترال میں بھی پایا جاتا ہے۔ "بھوج پتر" کا مطلب بھوج کا کاغذ ہے۔ یہ در اصل اس درخت کی اس نرم چھال کا نام ہے جو تنے پر چڑھے سخت چھلکے کے اوپر ہوتی ہے۔ اس چھال کو سخت چھلکے تک چرکا لگا کر اتارا جاتا ہے۔ اس بارے میں چودھری محمد امجد لکھتے ہیں: "پتھر کے دور میں استعمال ہونے والا کاغذ جو بھوج پتر نام کے درخت کی چھال سے نکالا جاتا ہے یہ درخت دس ہزار فٹ سے لے کر سترہ ہزار فٹ کی بلندی پر ملتا ہے۔ اس کو گوجری زبان میں بہرز ، کشمیری میں بھوج پ...

جنرل ضیاء الحق کا ظلمانہ دور

تصویر
 جنرل ضیاء الحق کا ظالمانہ دور  😌 وہ دور جب پاکستان میں تمام بھارتی میڈیا پہ پابندی تھی ۔ ٹی وی پہ ایک چینل ہوتا تھا اور نیوز کاسٹر سرپہ دوپٹہ رکھ کہ آتی تھیں ۔👰 ٹی وی نشریات شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک ہوتی ۔ نشریات کا آغاز اور اختتام تلاوت کلام پاک ، حمد اور نعت سے ہوتا ۔👍 چوری ، زنا کی بہت سخت سزائیں تھیں اور ملک میں مکمل امن و امان تھا ۔✊💪 ایک روپے کا بن کباب ملتا تھا اور پانچ روپے کا تو بس ایسا بہترین برگر ملتا تھا کہ کھاتے رہ جاؤ ۔👌 تندور پر روٹی آٹھ آنے کی ملتی تھی اور دس روپے میں ایک مزدور آرام سے دو وقت کا کھانا کھا لیتا تھا ۔✌ دوکانوں پر سوئی سے لیکر ہاتھی تک کے نرخ نامے لگے ہوتے اور مجال کہ کوئی ایک دھیلا پیسہ بھی زیادہ لے لے ۔✊ تمام سیاسی پارٹیوں پہ پابندی تھی اور عوام کو گمراہ کرنے والے سیاستدان جیل میں تھے ۔👊 سرکاری سکول فیس 10 روپے ماہانہ تھی اور پرائیوٹ سکول فیس 30 روپے ماہانہ۔👏 سکول میں پڑھایا جانے والا نصاب سخت جانچ پڑتال سے گزرتا اور اسلام مخالف اور پاکستان مخالف کوئی چیز بچوں کو نہ پڑھائی جاتی ۔👌💪 کالج میں ایک مہینہ فوجی ٹریننگ ہوتی جس میں حصہ ...

ٹینکی خالی کرو

تصویر
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹینکی خالی کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکھنے بیٹھا ہوں اور دماغ میں کوئی خیال نہیں ۔   یہ مرحلہ جان لیوا ھے ۔ لاکھوں الفاظ مچل رہے ہیں مگر پرونے کے لئے خیال نہیں ۔  خیال گھڑ کے اس پر لکھنا ناانصافی ہے اور میں یہ ناانصافی کرنا نہیں چاہتا ۔  اس لئے آج اس بات پر اکتفا کرونگا کہ بابے بڑے سیانے ھوتے ہیں ۔ بڑی گجی (گہری) بات کہتے ہیں ۔ بظاہر بابوں کے منہ سے نکلی بات بہت آسان  لگتی ہے مگر ھوتی مشکل ہے۔ آپ بابا اشفاق احمد صاحب کی اس دعا کو ہی لے لیجئے فرماتے ہیں  "اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے " بظاہر یہ دعا ہمیں بہت اچھی اور آسان لگتی ہے مگر غور کریں تو زندگی کا فلسفہ چھپا ہے ان دو جملوں میں ۔  دعا کا پہلا حصہ ہر بندے کو اچھا لگتا ہے کہ  "اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے " ہم سب آسانیاں لینے کو ہر وقت تیار ہیں   مگر اس دعا کا اگلہ جملہ نہایت مشکل مرحلہ ہے۔ "اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے آمین "   کیونکہ میں آسانیاں لینے کو تو شیر ھوں مگر آسانیاں دینے کو ہرگز تیار نہیں ۔ اور آسانیاں دوں بھی تو کسے ...

رات کی نماز کے دو عظیم فائدے"*

تصویر
 *🌌 - "رات کی نماز کے دو عظیم فائدے"* *📄 اللہ تعالی کا فرمان ہے: "إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ  قِيلًا" (سورۃ المزمل : ٦)* *"رات کا اٹھنا یقینا (نفس کو) بہت زیر کرنے والا ہے اور قرآن پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں وقت ہے۔"*   ✍🏻 مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمه اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : *⬅ " وَطَأ بمعنی روندنا، پامال کرنا، سب کس بل نکال دینا۔ یعنی رات کو جاگ کر اپنے نفس کو اللہ کی عبادت پر آمادہ کرنا نفس کی سرکشی کو دور کرنے اور اس کے کس بل نکالنے کے لیے بہت موثر علاج ہے۔ البتہ اس سے نفس کو کوفت بہت ہوتی ہے۔ اور (وَطَأ عَلَی الاَمْرِ) کا دوسرا معنی کسی کام کو اپنی مرضی کے موافق آسان بنالینا بھی ہے۔ گویا شب بیداری اگرچہ نفس پر بہت گراں بار ہے تاہم یہ نفس کی اصلاح کے لیے اور جس کام کے لیے ہم آپ (صلی اللہ علیه وآله وسلم) کی تربیت کرنا چاہتے ہیں، نہایت مناسب اور مفید رہے گی۔* *⬅ (أقْوَمُ قِیْلاً) یعنی بات کو زیادہ درست بنانے والا۔ یعنی شب بیداری کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس وقت دل و دماغ تازہ ہوتے ہیں۔ شوروغل نہیں ہوتا۔...

بات کرنے سے نسل کا پتہ چل جاتا ہے

تصویر
بات کرنے سے نسل کا پتہ چل جاتا ہے ki کسی زمانے میں ایک بادشاہ نے ایک قیدی کو کسی وجہ سے پھانسی کا حکم دیا اور جب قید خانے میں سے قیدی کو لایا گیا تو اس سے مرنے سے پہلے آخری خواہش پوچھی گئی قیدی نے کہا میں کیونکہ ایک اچھے گھرانے سے ہوں لہذا مجھے اعلی نسلی گھوڑوں سے پھانسی لگایا جائے (اس زمانے میں پھانسی کے تخت پر چڑھا کر گھوڑوں سے بندھ کر گھوڑوں کو دوڑیا جاتا تھا اس طرح پھانسی کی سزا ہوتی تھی)خیر گھوڑوں کو لایا گیا تو قیدی بول اٹھا ان میں ایک تو نسلی ہے پر ایک نسلی نہیں ہے لہذا میری آخری خواہش مکمل نہیں ہوئی بادشاہ نے گھوڑوں کے مالک کو بلوایا اور پوچھا کیا یہ بات سچ ہے گھوڑوں کے مالک نے جواب دیا بلکل ایک بلکل اصلی نسل کا لیکن دوسرا میں گدھے کا ملاپ شامل ہے بادشاہ نے حیران ہو کر قیدی سے پوچھا تمہیں کیسے یہ بات پتہ چلی کہ ایک گھوڑا نسلی ہے اور ایک نسلی نہیں۔ قیدی نے کہا جو نسلی ہے وہ بڑے آرام سے کھڑا تھا جبکہ جو ملاپ گدھے کا ہے وہ گدھے کی طرح کبھی ادھر ٹانگ مار کبھی منہ پھیر کبھی اچھل کر کبھی بیٹھ جا جس سے مجھے علم ہوا بادشاہ قیدی کی دانائی اور سوچ سے بڑا متاثر ہوا اور قیدی کی پھانسی منسو...

غدار _چکور

تصویر
#غدار_چکور سلطان محمود غزنوی کے پاس ایک شخص ایک چکور لایا جسکا ایک پاوں نہیں تھا۔ جب سلطان نے اس سے چکور کی قیمت پوچھی تو اس شخص نے اس کی قیمت بہت مہنگی بتائی۔ سلطان نے حیران ہو کر اس سے پوچھا کہ اسکا ایک پائوں بھی نہیں ہے پھر بھی اس کی قیمت اتنی زیادہ کیوں بتا رہے ہو؟تو وہ شخص بولا کہ جب میں چکوروں کا شکار کرنے جاتا ہوں تو یہ چکور بھی شکار پر ساتھ لے جاتا ہوں۔  وہاں جال کے ساتھ اسے باندھ لیتا ہوں تو یہ بھہت عجیب سی آوازیں نکالتا ہے اور دوسری چکوروں کو بلاتا ہے۔  اس کی آوازیں سن کر بہت  سے چکور آ جاتے ہیں اور میں انہیں پکڑ لیتا ہوں۔  سلطان محمود غزنوی نے اس چکور کی قیمت اس شخص کو دے کر چکور کو ذبح کردیااس شخص نے پوچھا کہ اتنی قیمت دینے کے باوجود اس کو کیوں ذبح کیا؟ سلطان نے اس پر تاریخی الفاظ کہے: "جو دوسروں کی دلالی کیلئے اپنوں سے غداری کرے اس کا یہی انجام ہونا چاہیے"

کرم دین چوکیدار

تصویر
   کرم دین چوکیدا   اپنی سائیکل کے ہینڈل سے گوشت کی چند تھیلیاں لٹکائے تیز تیز پیڈل مارتا ہوا اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا اس کے چہرے پہ ایک انوکھی سی مسرت اور طمانیت کے آثار نظر آ رہے تھے ایک انتہائی غریب سے محلے میں پہنچ کر اس نے ایک گھر کے سامنے سائیکل روکی اور گھر کا دروازہ بجا دیا کچھ دیر بعد اندر سے ایک نسوانی آواز آئی کہ جی کون؟ باجی میں ہوں کرم دین چوکیدار۔۔۔! اس کے بلند آواز سے جواب دیتے ہی دروازہ کھلا اور دوپٹے کے پلو سے چہرہ ڈھانپے ایک عورت نظر آئی! کرم دین نے نگاہیں جھکاتے ہوئے اس خاتون کو بڑے احترام سے سلام کیا حال احوال پوچھا عید کی مبارک باد دی اور گوشت کی ایک تھیلی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ لیں باجی یہ آپ کا حصہ ہے۔  اس عورت نے تھیلی لیتے ہوئے بڑے گلوگیر لہجے میں کرم دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کرم دین میں تیرا شکریہ ادا نہیں کر سکتی بس اللہ کے سامنے اپنے بچیوں کی یتیمی پیش کر کے تیرے لئے ہمیشہ خیر مانگتی رہتی ہوں یہ سن کر کرم دین کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اس نے جلدی سے چہرہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ بہن تجھے کتنی بار کہا ہے کہ ایسی باتی...

قابل عزت

تصویر
*کیا میں قابلِ عزت ھوں؟* حصہ دوئم تحریر:-عزیزخان ایڈووکیٹ لاہور   میرے سابقہ افسران بالا نے میری پچھلی تحریر دیکھی اور پڑھی اُنہیں یہ لگا کہ میں نے کسی خاص افسر کی ذات پر بات کی ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی لیکن اگر وہ یہ سمجھتے ہیں  کہ اُن کے ہاتھ میں کسی کی نوکری ، عزت، ذلت، پروموشن، اور بچوں کا مُستقبل ہے تو وہ بلکُل غلط ہیں  اس تحریر کو پڑھنے کے بعد میرے بارے میں انکوائری کرائی گی کہ 1982 کا کون Asi ہے جس نے ایسی گُستاخی کی ہے آخر  کار مجھے ٹریس کر لیا گیا مجھے یہ بھی جتلایا گیا کہ میری پولیس میں بھرتی اِسی  Psp کلاس کی مرہون منت تھی  میں بلکل تسلیم کرتا ہوں لیکن شاید اُن کو یاد نہیں کہ مارشل لا کے اُس دور میں کسی کی جُرت نہیں تھی کہ دھاندلی یا سفارش سے بھرتی کرتا ہر رینج کی سلیکشن ڈیپٹی مارشل لا ایڈمنیسٹیٹر خود دیکھتا تھا ورنہ میں اور میرے دوست جن کی کوئی سفارش نہیں تھی پولیس میں بھرتی نہ ہو سکتے؟ انٹرویو میں رات کو Dig صاحبان دوسری رینج میں جایا کرتے تھے تاکہ کوئی سفارش نہ مانیں  اور پھر ایسا کیا ہوا کہ انہیں تمام ایماندار افسران کے ہوت...

جج یا چوہدری

تصویر
دونوں فریق پہنچ چکے تھے ڈیرے کی چارپاٸیاں کم پڑ گٸی تھیں ملازم ڈیرہ کے کمرہ میں پڑی دو چار کرسیاں بھی اٹھا لایا اسی دوران ہی چوہدری صاحب دھوتی کرتا پہنے حقہ ہاتھ میں تھامے سلام کرتے ہوے جج کی کرسی کی طرح سامنے رکھی چارپاٸی پر بیٹھ گٸے اور اپنے ملازم بوٹے کو آواز لگاتے ہوے کہا بوٹے سب کے لیے فسکلاس سی چاۓ بنا کرلاٶ جس بھاٸی نے حقہ کا کش لگانا ہو وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ سکتا ھے یہ کہکر چوہدری صاحب نذیرے سے مخاطب ہوے ہاں نذیرے اپنی بات سناٶ نذیرے نے بات شروع کرتے ہوے کہا چوہدری صاحب آپکو پتہ ہی ھے کے میں نے اپنی بیٹی کی شادی مختارے کے بیٹے کے ساتھ کی تھی دونوں میں روز لڑاٸی جھگڑا رہتا تھا لڑکا نشہ کرتا تھا اور اپنی بیوی کو خرچہ پانی بھی نہیں دیتا تھا سمجھایا بجھایا بھی بہت مگر سدھرا نہیں مجبوری میں ہم نے عدالت کے ذریعے طلاق لے لی اب لڑکی کا سامان جہیز ان کے گھر پڑا ھے مختارا سامان جہیز واپس نہیں کر رہا میں نے بیٹی کو آگے کسی کے گھر بٹھانا ھے بغیر سامان کے کوٸی کنواری لڑکی کا رشتہ نہیں لیتا میری بیٹی تو پھر طلاق یافتہ ھے اور دوسری بار پھر نیا سامان جہیز بناٶ اتنی میری پسلی نہیں چوھدری صاحب ن...

ایک سچا واقعہ

تصویر
*ایک ایسا سچا واقعہ جس کو پڑھنے سے بندے کا ایمان  تازہ  ھوجائے.* عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا۔ پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کے لئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا۔ ان ہی دنوں عبد اللہ طاہر نے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔  اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان (عبد اللہ طاہر) کو اسکی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا۔ اب یہ گھبرائے اگر امیر کو معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا۔ اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ (لوہار) نظر آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس بےگناہ شخص کوفوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیا۔ امیرخراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اس لئے مزید کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر سب کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔ نیک سیرت ل...

مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ

تصویر
حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ ہندوستان میں رام پور جیل میں تھے، جیل میں اناج دیا گیا کہ ان کا آٹا پسواو ،  کہا گیا عطاء اللہ تم باغی ہو اس لئے تمہاری یہی سزا ہے کہ تم آج چکی پیسو۔ عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے مزہ آیا، میں نے رومال اتار کر رکھ دیا، وضو کرکے بسم اللہ پڑھ کر میں نے چکی بھی پیسنی شروع کر دی، اور ساتھ میں سورہ یاسین کی تلاوت بھی شروع کر دی۔ عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے قرآن کو آواز کے ساتھ پڑھنا شروع کیا تو اس وقت جیل کا سپریٹینڈینٹ قریب تھا وہ  نکل کر آیا اور قریب آکر روتا ہوا کھڑا ہو گیا اور جیل کا دروازہ کھلوا دیا، کہنے لگا، عطاء اللہ تجھے تیرے نبی کی قسم، بس کر اگر تو نے دو آیتیں اور پڑھ لی تو میرا جگر پھٹ جائے گا۔ " یہ تھا انگریز پر قرآن سننے کا اثر ۔“  اللہ حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قبر کو نور سے منور فرما آمین۔