اشاعتیں

نومبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جب کشتیاں جلا دی گئیں

تصویر
جب کشتیاں جلا دی گئیں اور مسلم افواج اسپین میں داخل ہوئیں۔ فتح اندلس کی سچی داستان ۹۲ھ میں اندلس موجودہ اسپین پر عیسائی حکمراں راڈرک تخت نشیں تھا جس کو عربی تاریخوں میں لزریق کہتے ہیں یہ نہایت بے رحم اور عیاش تھا اس کا ایک خاص شوق یہ تھا کہ وہ اپنی رعایا کے نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کو شاہی تربیت کے بہانے اپنے زیر اثر رکھتا تھا اور اپنی ہوس کا شکار بناتاتھا، چناں چہ اس کے ایک گورنر کونٹ جولین کی بیٹی فلورنڈا، بھی اس کے فعل قبیحہ سے نہ بچ سکی نتیجتاً نوعمر لڑکی نے اپنے باپ جولین کو اس حرکت سے باخبر کیا جس کی وجہ سے جولین کے دل میں راڈرک اور اس کی حکومت کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی، یہ وہ زمانہ تھا کہ جب اہل اسلام موسیٰ بن نصیر کی قیادت میں شمالی افریقہ کے پیشتر حصوں کو اپنا وطن بناچکے تھے چناں چہ جولین ایک وفد لے کر موسیٰ بن نصیر کی چوکھٹ پر حاضر ہوا اور موسیٰ کو راڈرک کی تمام کرتوت سے آگاہ کیا اوردرخواست کی کہ وہ اسپین کو راڈرک جیسے سفاک، بدکردار، حاکم سے نجات دلائیں جولین کی گزارش پر موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبدالملک سے اندلس پر حملے کی اجازت طلب کی خلیفہ نے احتیاط کی تاکید ...